حدیث نمبر: 22
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ (مُجَاهِدًا) يَقُولُ: الْقُرْآنُ يَشْفَعُ لِصَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَقُولُ: يَا رَبِّ، جَعَلْتَنِي فِي جَوْفِهِ، فَأَسْهَرْتُ لَيْلَهُ، وَمَنَعْتُهُ كَثِيرًا مِنْ شَهْوَتِهِ، وَلِكُلِّ عَامِلٍ عُمَالَةٌ ! فَيَقُولُ: ابْسُطْ يَدَكَ، أَوْ قَالَ: يَمِينَكَ ! فَيَمْلَأُهَا مِنْ رِضْوَانِهِ، فَلَا يَسْخَطُ عَلَيْهِ بَعْدَهَا . ثُمَّ يُقَالُ: اقْرَهْ، وَارْقَهْ، فَيُرْفَعُ لَهُ بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةٌ، وَبِكُلِّ آيَةٍ حَسَنَةٌ .
مظاہر امیر خان

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: قرآن قیامت کے دن اپنے ساتھی کی سفارش کرے گا اور کہے گا: ”اے میرے رب! تو نے مجھے اس کے سینے میں رکھا، میں نے اس کی راتوں کو جاگنے میں گزارا، اور اسے بہت سی خواہشات سے روکے رکھا، اور ہر عمل کرنے والے کے لیے بدلہ ہوتا ہے!“ پس (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا: ”اپنا ہاتھ پھیلاؤ!“ یا فرمایا: ”اپنا دایاں ہاتھ پھیلاؤ!“ پس اس کا ہاتھ اللہ کے رضوان سے بھر دیا جائے گا، اور اس پر کبھی ناراضگی نہ ہوگی۔ پھر کہا جائے گا: ”پڑھو اور چڑھو!“ پس ہر آیت کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کیا جائے گا، اور ہر آیت کے بدلے اسے نیکی ملے گی۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 22
درجۂ حدیث محدثین: الحديث سنده حسن عن مجاهد؛ عبد الرحمن بن زياد تقدم في الحديث [٦] أنه صدوق، لكنه قد توبع، فالحديث صحيح لغيره
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 22، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30672، 30681»