سنن سعید بن منصور
كتاب النكاح— نکاح کی کتاب
بَابُ الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ فَيَدْخُلُ عَلَيْهَا وَمَعَهَا نِسَاءٌ فَوَقَعَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ باب: اس شخص کا بیان جو نکاح کے بعد غلطی سے کسی اور عورت سے ہمبستر ہو جائے۔
حدیث نمبر: 2196
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: «إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ ابْنٌ، وَكَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ، وَلَهَا ابْنَةٌ مِنْ غَيْرِهِ، وَابْنُهُ مِنْ غَيْرِهَا، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَتَزَوَّجَ الِابْنُ ابْنَةَ الْمَرْأَةِ إِنْ كَانَتْ وُلِدَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا الْأَبُ، وَإِنْ كَانَ بَعْدُ كَرِهَهُ» . وَلَمْ يَرَ بِهِ مُجَاهِدٌ بَأْسًا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ. قَالَ أَبُو عُثْمَانَ: الْقَوْلُ مَا قَالَ مُجَاهِدٌمظاہر امیر خان
حضرت طاؤس رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی مرد کی بیوی ہو اور اس کی بیوی کی بیٹی ہو، تو اگر بیٹی اس کی ماں سے پہلے پیدا ہو تو اس کے بیٹے کے لیے اس سے نکاح جائز ہے۔ اگر بعد میں پیدا ہوئی ہو تو مکروہ ہے۔“ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے اس میں پہلے یا بعد میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ حضرت ابو عثمان رحمہ اللہ نے فرمایا: ”قول مجاہد رحمہ اللہ کا معتبر ہے۔“