سنن سعید بن منصور
كتاب النكاح— نکاح کی کتاب
بَابُ الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ فَيَدْخُلُ عَلَيْهَا وَمَعَهَا نِسَاءٌ فَوَقَعَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ باب: اس شخص کا بیان جو نکاح کے بعد غلطی سے کسی اور عورت سے ہمبستر ہو جائے۔
حدیث نمبر: 2192
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ وَالْحَارِثِ الْغَنَوِيِّ، فَتَذَاكَرُوا هَذَا الْبَابَ، فَقَالَ حُمَيْدٌ: «يُسْأَلَانِ الْبَيِّنَةَ، وَإِلَّا أُقِيمُ عَلَيْهَا الْحَدُّ» . وَقَالَ الْحَارِثُ الْغَنَوِيُّ: الْقَوْلُ قَوْلُهَا، وَلَا حَدَّ عَلَيْهِمَا. فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ أَقْبَلَ ابْنُ شُبْرُمَةَ فَقَالَ حُمَيْدٌ لِلْحَارِثِ: هَذَا ابْنُ شُبْرُمَةَ , وَهُوَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ , فَأَقْبَلَ ابْنُ شُبْرُمَةَ حَتَّى جَلَسَ، فَسَأَلَهُ حُمَيْدٌ، فَقَالَ ابْنُ شُبْرُمَةَ بِقَوْلِ إِبْرَاهِيمَمظاہر امیر خان
حضرت حمید طویل اور حارث غنوی رحمہما اللہ نے اس بارے میں اختلاف کیا۔ حمید نے کہا: ”گواہی لائی جائے ورنہ حد لگے گی۔“ حارث نے کہا: ”عورت کی بات معتبر ہے، حد نہیں لگے گا۔“ پھر ابن شبرمہ آئے اور ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے ابراہیم رحمہ اللہ کے قول کی تائید کی۔