سنن سعید بن منصور
كتاب النكاح— نکاح کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي ابْنَةِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ باب: رضاعت سے پیدا ہونے والی بھتیجی (بھائی کی بیٹی) سے نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 2174
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ كِنَانَةَ - أُرَاهُ عِتْوَارِيًّا، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: أَمِنْ بَنِي فُلَانٍ أَنْتَ؟ قُلْتُ: لَا، وَلَكِنَّهُمْ أَرْضَعُونِي. قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّبَنَ يُشْتَبَهُ عَلَيْهِ»مظاہر امیر خان
عمر بن حبیب، ایک آدمی سے (جو غالباً کینانہ قبیلے کا عتواری تھا) روایت کرتے ہیں، وہ کہتا ہے: میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا، انہوں نے پوچھا: ”کیا تم فلاں قبیلے سے ہو؟“ میں نے کہا: ”نہیں، البتہ انہوں نے مجھے دودھ پلایا ہے۔“ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ”دودھ کے بارے میں شبہ ہو سکتا ہے۔“