حدیث نمبر: 2174
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ كِنَانَةَ - أُرَاهُ عِتْوَارِيًّا، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: أَمِنْ بَنِي فُلَانٍ أَنْتَ؟ قُلْتُ: لَا، وَلَكِنَّهُمْ أَرْضَعُونِي. قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّبَنَ يُشْتَبَهُ عَلَيْهِ»
مظاہر امیر خان

عمر بن حبیب، ایک آدمی سے (جو غالباً کینانہ قبیلے کا عتواری تھا) روایت کرتے ہیں، وہ کہتا ہے: میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا، انہوں نے پوچھا: ”کیا تم فلاں قبیلے سے ہو؟“ میں نے کہا: ”نہیں، البتہ انہوں نے مجھے دودھ پلایا ہے۔“ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ”دودھ کے بارے میں شبہ ہو سکتا ہے۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب النكاح / حدیث: 2174
درجۂ حدیث محدثین: آسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «آسنادہ ضعیف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 997، 2299، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 15780، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13953»
مجہول راوی رجل من كنانة أراه عتواريا