سنن سعید بن منصور
كتاب النكاح— نکاح کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي ابْنَةِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ باب: رضاعت سے پیدا ہونے والی بھتیجی (بھائی کی بیٹی) سے نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 2164
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ رَجُلًا أَوْجَرَتْهُ امْرَأَتُهُ أَوْ سَعَطَتْهُ مِنْ لَبَنِهَا، فَأَتَوْا أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، فَقَالَ: «حُرِّمَتْ عَلَيْهِ» . ثُمَّ أَتَوْا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: لَا رَضَاعَ بَعْدَ الْحَوْلَيْنِ، إِنَّمَا الرَّضَاعُ مَا أَنْبَتَ اللَّحْمَ وَأَنْشَزَ الْعَظْمَ. قَالَ أَبُو مُوسَى: لَا تَسْأَلُونِي - أَوْ لَا يَنْبَغِي أَنْ تَسْأَلُونِي - عَنْ شَيْءٍ مَا دَامَ هَذَا الْحَبْرُ بَيْنَكُمْمظاہر امیر خان
کسی شخص نے اپنی بیوی کے دودھ سے ناک یا حلق کے ذریعے کچھ لیا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”وہ عورت اس پر حرام ہو گئی۔“ مگر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ”دو سال کے بعد رضاعت کوئی حیثیت نہیں رکھتی، رضاعت وہی ہے جو ہڈی کو مضبوط اور گوشت کو پیدا کرے۔“ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جب تک یہ عالم (عبداللہ بن مسعود) موجود ہیں، مجھ سے کچھ نہ پوچھو۔“