سنن سعید بن منصور
كتاب النكاح— نکاح کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي ابْنَةِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ باب: رضاعت سے پیدا ہونے والی بھتیجی (بھائی کی بیٹی) سے نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 2145
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنِ الرَّضَاعِ، قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ «لَا تَرَى الْمَصَّةَ وَلَا الْمَصَّتَيْنِ شَيْئًا دُونَ عَشْرِ رَضَعَاتٍ فَصَاعِدًا» . ثُمَّ سَأَلْتُهُ عَنِ الرَّضَاعَةِ بَعْدَ الْفِطَامِ قَالَ: «إِنَّمَا ذَلِكَ طَعَامٌ أَكَلَهُ لَيْسَ بِشَيْءٍ» ثُمَّ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الرَّضَاعِ، فَقَالَ سَعِيدٌ: أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ كَمَا يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ الزُّبَيْرِ. قُلْتُ: كَيْفَ كَانَا يَقُولَانِ؟ فَقَالَ: كَانَا يَقُولَانِ: " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ. قُلْتُ: كَيْفَ تَقُولُ أَنْتَ؟ قَالَ: إِنْ كَانَتْ دَخَلَتْ بَطْنَهُ قَطْرَةٌ يَعْلَمُ ذَلِكَ، فَإِنَّهَا عَلَيْهِ حَرَامٌ. قُلْتُ: أَرَأَيْتَ الرَّضَاعَةَ بَعْدَ الْفِطَامِ؟ قَالَ: إِنَّمَا ذَلِكَ طَعَامٌ أَكَلَهُ لَيْسَ بِشَيْءٍ "مظاہر امیر خان
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: ”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تین یا چار مرتبہ دودھ پینے کو کچھ نہیں سمجھتی تھیں، صرف دس رضاعتیں ہونے کے بعد حرمت قائم ہوتی ہے۔“ اور دودھ پینے کے بعد کے کھانے کو وہ کچھ نہیں سمجھتی تھیں۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر ایک قطرہ بھی پیٹ میں چلا جائے تو حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔“