سنن سعید بن منصور
كتاب النكاح— نکاح کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي ابْنَةِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ باب: رضاعت سے پیدا ہونے والی بھتیجی (بھائی کی بیٹی) سے نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 2131
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: قُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: امْرَأَةُ أَبِي أَرْضَعَتْ جَارِيَةً مِنْ عَرَضِ النَّاسِ بِلِبَانِ إِخْوَتِي، أَتَرَى أَنْ أَتَزَوَّجَهَا؟ قَالَ: لَا، أَبُوكَ أَبُوهَا. ثُمَّ حَدَّثَ حَدِيثَ أَبِي قُعَيْسٍ، فَقَالَ: إِنَّ أَبَا قُعَيْسٍ أَتَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا، فَلَمْ تَأْذَنْ لَهُ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا قُعَيْسٍ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، فَلَمْ آذَنْ لَهُ. فَقَالَ: «هُوَ عَمُّكِ؛ فَلْيَدْخُلْ عَلَيْكِ» . فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةٌ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ؟ فَقَالَ: «هُوَ عَمُّكِ؛ فَلْيَدْخُلْ عَلَيْكِ» . قَالَ: وَسَأَلْتُ طَاوُسًا، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ الْأَوَّلِينَ، وَسَأَلْتُ عَطَاءً، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَسَأَلْتُ الْحَسَنَ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ الْأَوَّلِينَ. وَسَأَلْتُ مُجَاهِدًا، فَقَالَ: اخْتَلَفَ فِيهِ الْفُقَهَاءُ فَلَسْتُ أَقُولُ فِيهِ شَيْئًا. وَسَأَلْتُ ابْنَ سِيرِينَ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ مُجَاهِدٍ، وَسَأَلْتُ يُوسُفَ بْنَ مَاهَكَ، فَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي قُعَيْسٍمظاہر امیر خان
قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ میرے باپ کی بیوی نے میرے بھائی کے دودھ سے کسی لڑکی کو دودھ پلایا ہے، کیا میں اس سے نکاح کر سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا: ”نہیں، تمہارے باپ کا دودھ اس کا باپ بن گیا ہے۔“ اور پھر انہوں نے ابوقعیس کا واقعہ سنایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو اجازت دی کہ رضاعی چچا اندر آ سکتا ہے۔ اور تابعین میں سے طاؤس، عطا، حسن اور مجاہد رحمہم اللہ نے بھی یہی کہا۔