سنن سعید بن منصور
كتاب النكاح— نکاح کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي ابْنَةِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ باب: رضاعت سے پیدا ہونے والی بھتیجی (بھائی کی بیٹی) سے نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 2128
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ - قَالَ سُفْيَانُ: سَمِعْتُهُ مِنْهُمَا جَمِيعًا - عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " جَاءَ عَمِّي أَفْلَحُ بْنُ أَبِي قُعَيْسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «إِنَّهُ عَمُّكِ؛ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ» . فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ. قَالَ: «تَرِبَتْ يَدَاكِ، فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ»مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میرے چچا افلح بن ابی قعیس نے پردہ کے بعد مجھ سے ملاقات کی اجازت مانگی، میں نے انکار کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں آنے دو»۔ میں نے عرض کیا: مجھے تو عورت نے دودھ پلایا تھا، مرد نے نہیں۔ آپ نے فرمایا: «تیری خیر ہو، انہیں آنے دو»۔“