سنن سعید بن منصور
كتاب النكاح— نکاح کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي ابْنَةِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ باب: رضاعت سے پیدا ہونے والی بھتیجی (بھائی کی بیٹی) سے نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 2125
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَتَزَوَّجُ ابْنَةَ عَمِّكَ حَمْزَةَ؟ فَإِنَّهَا مِنْ أَحْسَنِ فَتَاةٍ فِي قُرَيْشٍ. قَالَ: «إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ»مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اپنے چچا حمزہ رضی اللہ عنہم کی بیٹی سے نکاح کیجیے، وہ قریش کی حسین ترین لڑکیوں میں سے ہے۔“ آپ نے فرمایا: «وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، اور اللہ نے نسب سے جو حرام کیا وہی رضاعت سے بھی حرام کیا ہے»۔