سنن سعید بن منصور
كتاب النكاح— نکاح کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ فَتَمُوتُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَوْ يُطَلِّقَهَا، هَلْ يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ أُمَّهَا باب: نکاح شدہ عورت کے فوت ہو جانے یا طلاق سے پہلے اس کی ماں سے نکاح کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 2119
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: " مَرَّ بِي عَمِّي الْحَارِثُ بْنُ عَمْرٍو، وَقَدْ عَقَدَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَاءً، فَعَدَلْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: أَيْنَ بَعَثَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «بَعَثَنِي إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ»مظاہر امیر خان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میرے پاس میرے چچا حارث بن عمرو رضی اللہ عنہم آئے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے جھنڈا باندھا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا: کہاں بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ایک شخص کے پاس جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تھا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی گردن مارنے کا حکم دیا۔“