سنن سعید بن منصور
كتاب النكاح— نکاح کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ فَتَمُوتُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَوْ يُطَلِّقَهَا، هَلْ يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ أُمَّهَا باب: نکاح شدہ عورت کے فوت ہو جانے یا طلاق سے پہلے اس کی ماں سے نکاح کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 2118
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا تَزَوَّجَ أُمَّ امْرَأَتِهِ وَقَدْ دَخَلَ بِامْرَأَتِهِ فَارَقَهُمَا جَمِيعًا، وَإِنْ كَانَتِ الْأُخْتُ أَقَامَ عَلَى امْرَأَتِهِ وَلَمْ يَقْرَبْهَا حَتَّى يَسْتَبْرِئَ رَحِمَ الْأُخْرَى، فَإِذَا اسْتَبْرَأَ رَحِمَهَا رَجَعَ إِلَى امْرَأَتِهِ»مظاہر امیر خان
سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی ماں سے نکاح کرے جبکہ اپنی بیوی سے دخول کر چکا ہو تو دونوں کو چھوڑ دے، اور اگر بیوی کی بہن سے نکاح کرے تو اپنی بیوی پر قائم رہے، البتہ اس سے مباشرت نہ کرے جب تک دوسری کا رحم پاک نہ ہو جائے، پھر واپس اپنی بیوی کی طرف رجوع کرے۔“