سنن سعید بن منصور

كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب

قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْـزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلا بِإِذْنِ اللهِ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْـزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلا بِإِذْنِ اللهِ» کا بیان

حدیث نمبر: 207
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحَارِثِ السُّلَمِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ ؟ فَقَالَ: مِنَ الْعِرَاقِ، قَالَ: كَيْفَ تَرَكْتَ النَّاسَ وَرَاءَكَ ؟ قَالَ: تَرَكْتُ النَّاسَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ عَلِيًّا سَوْفَ يَخْرُجُ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: لَوْ شَعَرْنَا مَا زَوَّجْنَا نِسَاءَهُ وَلَا قَسَمْنَا مِيرَاثَهُ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ ذَلِكَ ؛ إِنَّ الشَّيَاطِينَ كَانَتْ تَسْتَرِقُ السَّمْعَ فِي السَّمَاءِ، فَإِذَا سَمِعَ أَحَدُهُمْ كَلِمَةَ حَقٍّ كَذَبَ مَعَهَا أَلْفَ كِذْبَةٍ، فَأُشْرِبَتْهَا قُلُوبُ النَّاسِ وَاتَّخَذُوهَا دَوَاوِينَ، فَاطَّلَعَ عَلَيْهَا سُلَيْمَانُ، فَدَفَنَهَا تَحْتَ كُرْسِيِّهِ، فَلَمَّا مَاتَ سُلَيْمَانُ، قَامَ شَيَاطِينُ بِالطَّرِيقِ، فَقَالَتْ: أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى كَنْزِ سُلَيْمَانَ الْمُمَنَّعِ الَّذِي لَا كَنْزَ لَهُ مِثْلَهُ ؟ فَاسْتَخْرَجُوهَا، قَالُوا: سِحْرٌ، وَإِنَّ بَقِيَّتَهَا هَذَا يَتَحَدَّثُ بِهِ أَهْلُ الْعِرَاقِ، وَأَنْزَلَ اللهُ عُذْرَ سُلَيْمَانَ فِيمَا قَالُوا مِنَ السِّحْرِ: { وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ } إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
مظاہر امیر خان

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک شخص ان کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: عراق سے، انہوں نے پوچھا: وہاں کے لوگوں کو کیسے چھوڑا؟ اس نے کہا: میں لوگوں کو اس بات پر گفتگو کرتے چھوڑ آیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس دوبارہ آئیں گے، انہوں نے فرمایا: اگر ہمیں معلوم ہوتا تو نہ ان کی بیویوں کی شادی کرتے اور نہ ان کا ورثہ تقسیم کرتے، میں تمہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں، شیاطین آسمان سے چھپ کر باتیں سنتے تھے، جب ان میں سے کوئی ایک سچی بات سنتا تو اس کے ساتھ ہزار جھوٹ ملاتا، لوگوں کے دلوں میں وہ باتیں بٹھا دی گئیں اور انہوں نے انہیں دیوان بنا لیا، حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے جان لیا اور اپنے تخت کے نیچے دفن کر دیا، جب ان کا وصال ہوا تو شیاطین نے راستے پر کھڑے ہو کر کہا: کیا میں تمہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے اس نایاب خزانے کی طرف نہ بتاؤں جس کا کوئی خزانہ برابر نہیں؟ لوگوں نے اسے نکالا، کہا: یہ جادو ہے، اور اس کا باقی حصہ آج کل اہل عراق بیان کرتے ہیں، اللہ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے عذر کو جادو کے الزام سے بری کرنے کے لیے نازل فرمایا: ﴿وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ﴾ سے آخر آیت تک۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 207
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 406، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3068، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10927، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 207»