سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْـزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلا بِإِذْنِ اللهِ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْـزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلا بِإِذْنِ اللهِ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ مُجَاهِدٍ، فَمَرَّ بِنَا رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ لَهُ مُجَاهِدٌ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ أَبِيكَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ الْمَلَائِكَةَ حِينَ جَعَلُوا يَنْظُرُونَ إِلَى أَعْمَالِ بَنِي آدَمَ وَمَا يَرْكَبُونَ مِنَ الْمَعَاصِي الْخَبِيثَةِ - وَلَيْسَ يَسْتُرُ النَّاسَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ شَيْءٌ -، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَقُولُ لِبَعْضٍ: انْظُرُوا إِلَى بَنِي آدَمَ كَيْفَ يَعْمَلُونَ كَذَا وَكَذَا، مَا أَجْرَأَهُمْ عَلَى اللهِ - يَعِيبُونَهُمْ بِذَلِكَ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ: قَدْ سَمِعْتُ الَّذِي تَقُولُونَ فِي بَنِي آدَمَ، فَاخْتَارُوا مِنْكُمْ مَلَكَيْنِ أُهْبِطُهُمَا إِلَى الْأَرْضِ، وَأَجْعَلُ فِيهِمَا شَهْوَةَ بَنِي آدَمَ . فَاخْتَارُوا هَارُوتَ وَمَارُوتَ، فَقَالُوا: يَا رَبِّ، لَيْسَ فِينَا مِثْلُهُمَا، فَأُهْبِطَا إِلَى الْأَرْضِ، وَجَعَلَ فِيهِمَا شَهْوَةَ بَنِي آدَمَ، وَمُثِّلَتْ لَهُمَا الزَّهْرَةُ فِي صُورَةِ امْرَأَةٍ، فَلَمَّا نَظَرَا إِلَيْهَا لَمْ يَتَمَالَكَا أَنْ تَنَاوَلَا مِنْهَا مَا اللهُ أَعْلَمُ بِهِ، وَأَخَذَتِ الشَّهْوَةُ بِأَسْمَاعِهِمَا وَأَبْصَارِهِمَا، فَلَمَّا أَرَادَا أَنْ يَطِيرَا إِلَى السَّمَاءِ لَمْ يَسْتَطِيعَا، فَأَتَاهُمَا مَلَكٌ فَقَالَ: إِنَّكُمَا قَدْ فَعَلْتُمَا مَا فَعَلْتُمَا، فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْيَا أَوْ عَذَابَ الْآخِرَةِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: مَاذَا تَرَى ؟ قَالَ: أَرَى أَنْ أُعَذَّبَ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ أُعَذَّبَ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعَذَّبَ سَاعَةً وَاحِدَةً فِي الْآخِرَةِ، فَهُمَا مُعَلَّقَانِ مُنَكَّسَانِ فِي السَّلَاسِلِ، وَجُعِلَا فِتْنَةً .خصیف رحمہ اللہ نے کہا: میں مجاہد رحمہ اللہ کے ساتھ تھا، ہمارے پاس قریش کا ایک آدمی گزرا، مجاہد نے اس سے کہا: ہمیں بتاؤ جو تم نے اپنے باپ سے سنا، اس نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا کہ جب فرشتوں نے بنی آدم کے اعمال اور ان کی گندی نافرمانیوں کو دیکھنا شروع کیا، اور لوگوں کو فرشتوں سے کچھ بھی نہیں چھپتا، تو کچھ فرشتوں نے ایک دوسرے سے کہا: بنی آدم کو دیکھو، وہ کیسے کیسے کام کرتے ہیں، اللہ پر کتنے دلیر ہیں، وہ ان پر تنقید کرتے تھے، اللہ عزوجل نے ان سے فرمایا: میں نے تمہاری باتیں بنی آدم کے بارے میں سن لیں، اپنے میں سے دو فرشتوں کا انتخاب کرو، میں انہیں زمین پر اتاروں گا اور ان میں بنی آدم کی شہوت ڈال دوں گا، انہوں نے ہاروت اور ماروت کو چنا، انہوں نے کہا: اے رب! ہم میں ان جیسا کوئی نہیں، چنانچہ وہ زمین پر اتارے گئے اور ان میں بنی آدم کی شہوت ڈال دی گئی، زہرہ ان کے سامنے عورت کی شکل میں ظاہر کی گئی، جب انہوں نے اسے دیکھا تو خود کو نہ روک سکے اور اس سے وہ کچھ لیا جو اللہ کو بہتر معلوم ہے، شہوت نے ان کے کانوں اور آنکھوں پر قبضہ کر لیا، جب وہ آسمان کی طرف اڑنا چاہتے تو نہ اڑ سکے، ایک فرشتہ ان کے پاس آیا اور کہا: تم نے جو کیا سو کیا، اب دنیا کا عذاب چنو یا آخرت کا، ایک نے دوسرے سے کہا: تمہارا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا: میرا خیال ہے کہ دنیا میں عذاب سہوں پھر عذاب سہوں، یہ مجھے آخرت میں ایک گھڑی کے عذاب سے زیادہ پسند ہے، چنانچہ وہ دونوں زنجیروں میں الٹے لٹکائے گئے اور فتنہ بنا دیے گئے۔