سنن سعید بن منصور

كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب

قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْـزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلا بِإِذْنِ اللهِ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْـزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلا بِإِذْنِ اللهِ» کا بیان

حدیث نمبر: 204
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ قَالَ: نَا خُصَيْفٌ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ } قَالَ: كَانَ سُلَيْمَانُ إِذَا نَبَتَتِ الشَّجَرَةُ قَالَ: لِأَيِّ دَاءٍ أَنْتِ ؟ فَتَقُولُ: لِكَذَا وَكَذَا، فَلَمَّا نَبَتَتْ شَجَرَةُ الْحُرْنُوبَةِ الشَّامِيُّ، قَالَ: لِأَيِّ شَيْءٍ أَنْتِ ؟ قَالَتْ: لِمَسْجِدِكَ أُخَرِّبُهُ، قَالَ: تُخَرِّبِينَهُ ؟ ! قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: بِئْسَ الشَّجَرَةُ أَنْتِ ! فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ تُوُفِّيَ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ فِي مَرْضَاهُمْ: لَوْ كَانَ لَنَا مِثْلُ سُلَيْمَانَ ! فَأَخَذُوا الشَّيَاطِينَ، فَأَخَذُوا كِتَابًا فَجَعَلُوهُ فِي مُصَلَّى سُلَيْمَانَ، فَقَالُوا: نَحْنُ نَدُلُّكُمْ عَلَى مَا كَانَ سُلَيْمَانُ يُدَاوِي بِهِ، فَانْطَلَقُوا فَاسْتَخْرَجُوا ذَلِكَ الْكِتَابَ فَإِذَا فِيهِ سِحْرٌ وَرُقًى، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: (وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ)، وَذَكَرَ أَنَّهَا فِي قِرَاءَةِ أُبَيٍّ: (وَمَا يُتْلَى عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ) - سَبْعَ مِرَارٍ -، فَإِنْ أَبَى إِلَّا أَنْ يَكْفُرَ عَلَّمَاهُ، فَيَخْرُجُ مِنْهُ نَارٌ - أَوْ نُورٌ -، حَتَّى يَسْطَعَ فِي السَّمَاءِ، قَالَ: الْمَعْرِفَةُ الَّتِي كَانَ يَعْرِفُ .
مظاہر امیر خان

خصیف رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے قول ﴿وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ﴾ کے بارے میں کہا: جب کوئی درخت اگتا تو حضرت سلیمان علیہ السلام اس سے پوچھتے: تو کس بیماری کے لیے ہے؟ وہ کہتا: فلاں فلاں کے لیے، جب شامی حُرنوبہ کا درخت اگا تو انہوں نے پوچھا: تو کس چیز کے لیے ہے؟ اس نے کہا: تیری مسجد کو خراب کرنے کے لیے، انہوں نے فرمایا: تو اسے خراب کرے گی؟ اس نے کہا: ہاں، انہوں نے فرمایا: تو بدترین درخت ہے! پھر جلد ہی ان کا وصال ہو گیا، لوگ اپنی بیماریوں میں کہنے لگے: کاش ہمارے پاس سلیمان جیسا کوئی ہوتا! شیاطین نے ایک کتاب لی اور اسے حضرت سلیمان علیہ السلام کے مصلے میں رکھ دیا اور کہا: ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ سلیمان کس چیز سے علاج کرتے تھے، لوگ گئے اور وہ کتاب نکالی تو اس میں جادو اور تعویذات تھے، تب اللہ عزوجل نے نازل فرمایا: ﴿وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ﴾، اور ذکر کیا کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قراءت میں ہے: ﴿وَمَا يُتْلَىٰ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ﴾، سات مرتبہ، اگر وہ کفر سے باز نہ آیا تو اسے سکھایا، پھر اس سے آگ یا نور نکلتا جو آسمان میں چمکتا، انہوں نے کہا: یہ وہ معرفت تھی جو وہ جانتے تھے۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 204
درجۂ حدیث محدثین: سنده حسن إلى خصيف، لكن خصيفًا لم يذكر المصدر الذي تلقى ذلك عنه
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»