سنن سعید بن منصور
كتاب النكاح— نکاح کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَزْنِي وَقَدْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا باب: زانی مرد کا نکاح کے بغیر عورت سے زنا کرنا
حدیث نمبر: 2034
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ حَنَشٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ. فَقَالَ: " إِنَّكَ إِذًا تُرْجَمَ إِنْ كُنْتَ قَدْ أَحْصَنْتَ. قَالَ: مَلَكْتُ - أَوْ تَزَوَّجْتُ - امْرَأَةً وَلَمْ أَبْنِ بِهَا. قَالَ: فَجَلَدَهُ مِائَةً، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَأَعْطَاهَا طَائِفَةً مِنْ صَدَاقِهَا "مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور زنا کا اقرار کیا، آپ نے فرمایا: ”اگر تو محصن ہے تو سنگسار کیا جائے گا“۔ اس نے کہا: ”میں نے نکاح کیا تھا مگر صحبت نہ کی تھی“، تو آپ نے اسے سو کوڑے مارے، بیوی سے جدائی کرائی اور مہر کا کچھ حصہ دیا۔
وضاحت:
حنش بن المعتمر صدوق ہیں، لیکن أوهام اور مرسل روایات کی وجہ سے کمزور ہیں (ابن حجر)۔ بخاری کی تنقید (يتكلمون في حديثه) اسے مزید کمزور کرتی ہے۔ سماك بن حرب صدوق ہیں، لیکن اضطراب کی وجہ سے مکمل صحت نہیں۔ تائید کا فقدان اسے ضعیف بناتا ہے۔