سنن سعید بن منصور
كتاب النكاح— نکاح کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَزْنِي وَقَدْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا باب: زانی مرد کا نکاح کے بغیر عورت سے زنا کرنا
حدیث نمبر: 2033
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِرَجُلٍ قَدْ أَقَرَّ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا، فَقَالَ لَهُ: أَحْصَنْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: إِذًا تُرْجَمَ. فَرَفَعَهُ إِلَى الْحَبْسِ، فَلَمَّا كَانَ بِالْعَشِيِّ دَعَا بِهِ، وَقَصَّ أَمْرَهُ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ:: إِنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا. فَفَرِحَ عَلِيٌّ بِذَلِكَ، فَضَرَبَهُ الْحَدَّ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، وَأَعْطَاهَا نِصْفَ الصَّدَاقِ، فِيمَا يَرَى سِمَاكٌمظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مرد آیا جس نے زنا کا اقرار کیا، آپ نے پوچھا: ”کیا تو محصن ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں“۔ فرمایا: ”تو پھر سنگسار کیا جائے گا“۔ مگر شام کو معلوم ہوا کہ اس نے صرف نکاح کیا تھا لیکن صحبت نہ کی تھی، تو آپ خوش ہوئے، اسے حد لگائی اور اس کی بیوی سے جدا کر دیا اور بیوی کو آدھا مہر دیا۔
وضاحت:
حنش بن المعتمر صدوق ہیں، لیکن أوهام اور مرسل روایات کی وجہ سے کمزور ہیں (ابن حجر)۔ بخاری کی تنقید (يتكلمون في حديثه) اسے مزید کمزور کرتی ہے۔ سماك بن حرب صدوق ہیں، لیکن اضطراب کی وجہ سے مکمل صحت نہیں۔ تائید کا فقدان اسے ضعیف بناتا ہے۔