سنن سعید بن منصور
كتاب النكاح— نکاح کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ ذَاتَ مَحْرَمٍ باب: محرم عورت سے نکاح کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2019
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، فِي رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَوَجَدَهَا أُخْتَهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَلَمْ يَعْلَمْ قَالَ: " إِذَا لَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِهَا فَلَا نِكَاحَ بَيْنَهُمَا وَيَقْبِضُ مَالَهُ، وَإِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا وَرَأَى مِنْهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ مِنَ امْرَأَتِهِ وَلَمْ يَمَسَّهَا، وَجَبَ مَهْرُهَا كَامِلًا، وَإِنْ كَانَ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا وَأَعْطَاهَا نِصْفَ الصَّدَاقِ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أُخْتُهُ، ثُمَّ عَلِمَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ: أَرَى أَنْ تَرُدَّ إِلَيْهِ مَا أَخَذَتْ مِنْهُ، وَلَمْ أَسْمَعْ فِيهِ شَيْئًا، وَعِدَّتُهَا عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ إِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا، وَإِنْ تُوُفِّيَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا فَلَا مِيرَاثَ بَيْنَهُمَا "مظاہر امیر خان
حضرت مکحول رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ اس کی رضاعی بہن ہے، تو اگر دخول نہ ہوا ہو تو نکاح باطل ہے اور مال واپس لیا جائے گا، اور اگر دخول ہوا ہو یا اس نے اس عورت سے وہ کچھ دیکھا ہو جو مرد اپنی بیوی سے دیکھتا ہے تو مہر پورا واجب ہوگا، اور اگر طلاق دے دی تھی اور آدھا مہر دے دیا تھا اور بعد میں حقیقت معلوم ہوئی تو جو کچھ عورت نے لیا ہو وہ واپس کرے گی۔ عدت مطلقہ کی عدت ہوگی اور ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے۔“