حدیث نمبر: 1967
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ بِإِذْنِ مَوْلَاهُ فَالطَّلَاقُ بِيَدِ الْعَبْدِ، وَإِذَا تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنٍ مَوْلَاهُ ثُمَّ اطَّلَعَ عَلَيْهِ مَوْلَاهُ، فَأَنْكَرَ تَزْوِيجَهُ يُفَرَّقُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، وَيَأْخُذُ مَوْلَاهُ مَا وَجَدَ مِنْ مَهْرِهَا بِعَيْنِهِ، وَمَا اسْتَهْلَكَتْهُ فَهُوَ لَهَا، وَإِنْ كَانَ أَحَدٌ غَرَّ الْمَرْأَةَ فَعَلَيْهِ لَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا»
مظاہر امیر خان

ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر غلام اپنے آقا کی اجازت سے نکاح کرے تو طلاق کا اختیار غلام کے ہاتھ میں ہے، اور اگر بغیر اجازت نکاح کرے اور آقا کو اس نکاح کا علم ہو جائے تو اگر وہ انکار کرے تو غلام اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کر دی جائے گی۔ اور جو کچھ آقا کو اس کی بیوی کے مہر میں “‘ سے ملے وہ آقا کو واپس کر دیا جائے گا، اور جو چیز عورت نے استعمال کر لی ہو وہ اس کی ملکیت ہو جائے گی۔ اگر کسی نے عورت کو دھوکہ دیا ہو تو اس پر عورت کا مثل مہر واجب ہو گا۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب النكاح / حدیث: 1967
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 790، 791، 795، 802، 803، 805، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12970، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18588»