حدیث نمبر: 19
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ جَبَلَةَ الْفَزَارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَا أُبَالِي، تَعَلَّمْتُ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ تَرَكْتُهَا، أَوْ مَشَيْتُ فِي النَّاسِ مَقْطُوعَةً يَدِي . ! "
مظاہر امیر خان

سوید بن جبلہ الفزاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ میں نے قرآن کی کوئی سورت سیکھی اور پھر اسے چھوڑ دیا، یا یہ کہ میں لوگوں میں کٹے ہوئے ہاتھ کے ساتھ چل رہا ہوں۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 19
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لضعف فرج بن فضالة.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»