حدیث نمبر: 1869
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ قَالَ: أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَابِتٍ الْكِنْدِيُّ أَنَّ رَجُلًا خَطَبَ إِلَى رَجُلٍ أُخْتَهُ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِجُزُرٍ فَقَبِلَتْهَا، وَقَسَمَتْهَا فِي حَيِّهَا، ثُمَّ إِنَّهَا أَنْكَرَتِ النِّكَاحَ بَعْدُ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى شُرَيْحٍ فَقَالَ لِلرَّجُلِ: بَيِّنَتَكَ أَنَّهَا رَضِيَتْ؟ فَقَالَ: مَا لِي بَيِّنَةٌ إِلَّا أَنَّ أَخَاهَا زَوَّجَنِيهَا، وَهُوَ مُقِرٌّ بِذَلِكَ، وَالْجُزُرُ الَّتِي أَهْدَيْتُهَا إِلَيْهَا قَبِلَتْهَا وَقَسَمَتْهَا فِي حَيِّهَا، فَقَالَ شُرَيْحٌ: «لَوْ كُنْتُ قَاضِيًا لِأَحَدٍ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَقَضَيْتُ لَكَ ثُمَّ اسْتَحْلَفَ الْمَرْأَةَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا رَضِيَتْ، وَلَا أَذِنْتَ وَلَا أَجَازَتْ، فَحَلَفَتْ وَضَمَّنَهَا ثَمَنَ الْجُزُرِ»
مظاہر امیر خان

حضرت عبداللہ بن ثابت کندی رحمہ اللہ سے روایت ہے: ایک شخص نے دوسرے سے اس کی بہن کا رشتہ مانگا، اس نے نکاح کر دیا اور ہدیہ بھی بھیجا جو عورت نے قبول کر کے تقسیم کر دیا، پھر عورت نے نکاح کا انکار کر دیا۔ مقدمہ حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس گیا، آپ نے کہا: ”اگر گواہی ہوتی تو تمہارے حق میں فیصلہ کر دیتا،“ پھر عورت سے قسم لی اور قیمت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب النكاح / حدیث: 1869
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»