حدیث نمبر: 1851
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ شُرَيْحٍ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا أَبَا أُمَيَّةَ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ أَتَانِي، وَلَا يَرْجُو أَنْ يَتَزَوَّجَنِي، فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ لَكَ أَنْ تَزَوَّجَنِي قَالَ: أَتَسْخَرِينَ بِي فَزَوَّجْتُهُ نَفْسِي، وَأَعْطَيْتُهُ مِنَ الَّذِي لِي أَرْبَعَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ، وَأَتْجَرْتُهُ فِي مَالِي حَتَّى عَمُرَ مَالُهُ فِي مَالِي كَالرَّقْمَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ فَزَعَمَ أَنَّهُ مُطَلِّقِي وَيَتَزَوَّجُ عَلَيَّ فَقَالَ شُرَيْحٌ لِلرَّجُلِ: مَا تَقُولُ؟ قَالَ: صَدَقَتْ فَسَأَلَ شُرَيْحٌ الْمَلَأَ حَوْلَهُ، فَزَعَمُوا أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَاهُ مِثْلُ الَّذِي أَتَاكَ، فَقَالَ: " أَنْتَ أَحَقُّ بِالطَّلَاقِ وَالنِّكَاحِ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَرْبَعَةِ نِسْوَةٍ، فَإِنْ أَنْتَ طَلَّقْتَ فَالطَّلَاقُ بِيَدِكَ، وَارْدُدْ إِلَيْهَا مَالَهَا، وَمِثْلُهُ مِنْ مَالِكَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، فَقَالَ شُرَيْحٌ: هَذَا الَّذِي بَلَغَنَا عَنْهُ، هُوَ قَضَائِي بَيْنَكُمَا قُومَا "
مظاہر امیر خان

حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس ایک عورت آئی اور کہا: ”اے ابو امیہ! یہ مرد میرے پاس آیا تھا، نکاح کا ارادہ نہیں تھا، میں نے کہا: ’کیا تم مجھ سے نکاح کرو گے؟‘ اس نے کہا: ’کیا مذاق کر رہی ہو؟‘ تو میں نے خود کو اس کے نکاح میں دے دیا اور چار ہزار درہم مال بھی دیا، پھر اس کے مال کو بڑھایا۔ اب یہ مجھے طلاق دینا چاہتا ہے اور دوسری شادی کرنا چاہتا ہے۔“ شریح نے مرد سے پوچھا، اس نے تصدیق کی۔ پھر شریح نے مجلس سے پوچھا تو بتایا گیا کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ایسا مقدمہ آیا تھا، انہوں نے فیصلہ دیا تھا: ”طلاق اور نکاح مرد کے ہاتھ میں ہے، چاہے تو چار عورتوں تک نکاح کرے، اگر طلاق دے تو طلاق مرد کے ہاتھ میں ہے اور عورت کو اس کا مال اور اتنا ہی مزید مال دے جس سے اس نے اس کا بدن حلال کیا۔“ شریح نے فرمایا: ”یہی ہمارا فیصلہ ہے، اٹھو!“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب النكاح / حدیث: 1851
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»