سنن سعید بن منصور
كتاب النكاح— نکاح کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ باب: کسی کا رشتہ طے ہونے کے بعد اس پر رشتہ بھیجنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1826
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى خَالَتِهَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ "مظاہر امیر خان
ایک شخص نے ایک عورت سے اس کی خالہ کی موجودگی میں نکاح کیا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان دونوں میں جدائی ڈال دی۔
وضاحت:
عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده کا سلسلہ "صحيح عند جمهور" ہے اگر سند میں ضعف شدید نہ ہو۔ حسين المعلم کو بعض محدثین نے اختلاط کا شکار بتایا، لیکن يزيد بن هارون جیسے ثقہ راوی نے روایت کی، تو قابلِ قبول ہے، لہٰذا سند قابل احتجاج (حسن درجے کی) ہے