سنن سعید بن منصور
كتاب النكاح— نکاح کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي نِكَاحِ السِّرِّ باب: چھپ کر نکاح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1804
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنْ عُبَيْدٍ، قَالَ: نا الْحَسَنُ أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً سِرًّا، فَكَانَ يَخْتَلِفُ إِلَيْهَا، فَرَآهُ جَارٌ لَهَا، فَقَذَفَهُ بِهَا فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: بَيِّنَتَكَ عَلَى تَزْوِيجِهَا، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ كَانَ أَمْرُنَا دُونَ فَأَشْهَدْتُ عَلَيْهَا أَهْلَهَا، فَدَرَأَ عُمَرُ الْحَدَّ عَنْ قَاذِفِهِ وَقَالَ: «حَصِّنُوا فُرُوجَ هَذِهِ النِّسَاءِ، وَأَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ وَنَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ»مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے خفیہ نکاح کیا، اس کے پاس آتا جاتا رہا، ایک ہمسایہ نے اسے دیکھ کر زنا کا الزام لگایا۔ معاملہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، آپ نے فرمایا: ”نکاح پر گواہی پیش کرو۔“ اس نے کہا: ”ہم نے نکاح خفیہ کیا تھا اور اس کے اہل کو گواہ بنایا تھا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قذف کرنے والے پر حد ساقط کر دی اور فرمایا: ”ان عورتوں کی عصمت کی حفاظت کرو، نکاح کو ظاہر کرو۔“ اور متعہ سے منع فرمایا۔