حدیث نمبر: 18
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ فَائِدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَهُ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا، لَا يَفُكُّهُ مِنْ غُلِّهِ إِلَّا الْعَدْلُ ! وَمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ، ثُمَّ نَسِيَهُ - لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ (أَجْذَمَ .) !مظاہر امیر خان
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر وہ شخص جو کسی جماعت کے امور کا ذمہ دار بنایا گیا ہو، وہ قیامت کے دن قید کی حالت میں لایا جائے گا، اور اسے اس قید سے صرف انصاف ہی چھڑوا سکے گا۔ اور جو شخص قرآن پڑھے اور پھر اسے بھلا دے، وہ اللہ تعالیٰ سے ایسے ملے گا جیسے اس کے اعضاء کٹے ہوئے ہوں۔