حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ سَمِعَ عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ فَذَكَرْتُ أَنْ لَا شَيْءَ لِي، فَذَكَرْتُ عَائِدَتَهُ وَصِلَتَهُ فَخَطَبْتُهَا إِلَيْهِ فَقَالَ: «هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ؟» فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: «أَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ؟» قُلْتُ: هِيَ عِنْدِي، قَالَ: هَاتِهَا، فَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ دَخَلْتُ عَلَيْهَا جَاءَ فَجَلَسَ وَنَحْنُ فِي قَطِيفَةٍ فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ تَخَشْخَشْنَا مِنْهُ فَقَالَ: «لَا تُحْدِثَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَكُمَا» فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ فَدَعَا فِيهِ، ثُمَّ رَشَّهُ عَلَيْنَا فَقَالَ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ هِيَ؟ قَالَ: «هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْكَ، وَأَنْتَ أَعَزُّ عَلَيَّ مِنْهَا»سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کا رشتہ طلب کرنے کا ارادہ کیا، لیکن میں نے یاد کیا کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ پھر میں نے ان کے احسانات اور تعلقات کو یاد کیا، تو میں نے ان سے نکاح کا پیغام دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری حطمیہ درع کہاں ہے؟“ میں نے کہا: ”وہ میرے پاس ہے۔“ فرمایا: ”اسے لاؤ۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کر دیا۔ جب شادی کی رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، ہم ایک چادر میں تھے، جب ہم نے آپ کو دیکھا تو ہم سمٹ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی کام نہ کرنا جب تک میں واپس نہ آؤں۔“ پھر پانی کا برتن منگوایا، اس میں دعا کی اور ہم پر چھڑک دیا۔ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میں آپ کو زیادہ محبوب ہوں یا وہ (فاطمہ رضی اللہ عنہا)؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مجھے تم سے زیادہ محبوب ہے، لیکن تم مجھے اس سے زیادہ عزیز ہو۔“