حدیث نمبر: 1775
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: أَلَا لَا تُغَالُوا فِي صُدُقِ النِّسَاءِ فَإِنَّهُ لَا يَبْلُغُنِي عَنْ أَحَدٍ سَاقَ أَكْثَرَ مِنْ شَيْءٍ سَاقَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سِيقَ إِلَيْهِ إِلَّا جَعَلْتُ فَضْلَ ذَلِكَ فِي بَيْتِ الْمَالِ، ثُمَّ نَزَلَ فَعَرَضَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَتْ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَوْ قَوْلُكَ؟ قَالَ: بَلْ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَمَا ذَلِكَ؟ قَالَتْ: نَهَيْتَ النَّاسَ آنِفًا أَنْ يُغَالُوا فِي صُدُقِ النِّسَاءِ وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ {وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا} [النساء: 20] فَقَالَ عُمَرُ: كُلُّ أَحَدٍ أَفْقَهُ مِنْ عُمَرَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ لِلنَّاسِ: «إِنِّي نَهَيْتُكُمْ أَنْ تُغَالُوا فِي صُدُقِ النِّسَاءِ أَلَا فَلْيَفْعَلْ رَجُلٌ فِي مَالِهِ مَا بَدَا لَهُ»
مظاہر امیر خان

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کرو، اگر مجھے کسی کے بارے میں معلوم ہوا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مہر دیا یا لیا ہے تو میں اس کا زائد مال بیت المال میں رکھ دوں گا۔“ پھر ایک قریشی عورت نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! اللہ عزوجل کی کتاب زیادہ حق رکھتی ہے یا آپ کا قول؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کی کتاب۔“ اس نے کہا: ”آپ نے لوگوں کو مہر میں زیادتی سے منع فرمایا حالانکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: «وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا» [النساء: 20]۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہر شخص عمر سے زیادہ فقیہ ہے۔“ پھر منبر پر واپس آئے اور فرمایا: ”میں نے تمہیں عورتوں کے مہر میں زیادتی سے منع کیا تھا، تو اب ہر شخص اپنے مال میں جو چاہے کرے۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب النكاح / حدیث: 1775
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 598، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 14450، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1566، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10420، وأخرجه الطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 5059»