حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أنا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، وَأَيُّوبُ، وَابْنُ عَوْنٍ، وَهِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَمَّا سَلَمَةُ فَقَالَ: نُبِّئْتُ عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ، وَأَمَّا غَيْرُهُ فَقَالَ: عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " أَلَا لَا تُغَالُوا صُدُقَ النِّسَاءِ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا، أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَصْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ، وَلَا أُصْدِقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ أَكْثَرَ مِنْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُغَالِي بِصَدَقَةِ امْرَأَتِهِ حَتَّى يَكُونَ لَهَا عَدَاوَةٌ فِي نَفْسِهِ، وَحَتَّى يَقُولُ: كَلِفْتُ إِلَيْكِ عَلَقَ الْقِرْبَةِ وَكُنْتُ غُلَامًا عَرَبِيًّا مُوَلَّدًا فَلَمْ أَدْرِ مَا عَلَقُ الْقِرْبَةِ، وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا فِي مَغَازِيكُمْ هَذِهِ: قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَوْقَرَ عَجُزَ رَاحِلَتِهِ أَوْ دَابَّتِهِ وَرِقًا وَذَهَبًا يَطْلُبُ التِّجَارَةَ، فَلَا تَقُولُوا ذَلِكُمْ، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ» . قَالَ إِسْمَاعِيلُ: دَخَلَ حَدِيثُ بَعْضِهِمْ فِي بَعْضٍسیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کرو، اگر یہ دنیا میں کوئی فضیلت یا اللہ عزوجل کے نزدیک تقویٰ کا سبب ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ حق دار ہوتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی یا بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ نہیں رکھا۔ مرد اپنی بیوی کے مہر میں اس قدر زیادتی کرتا ہے کہ دشمنی پیدا ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ کہتا ہے: ”میں نے تجھ پر مشکیزے کا بوجھ اٹھایا۔“ اور میں ایک عربی نوجوان تھا اور مشکیزے کا مطلب نہ جانتا تھا۔ اور تم معرکوں میں کہتے ہو کہ فلاں شہید ہوا، حالانکہ ممکن ہے کہ اس نے اپنی سواری پر چاندی یا سونا لدوا رکھا ہو اور تجارت کے ارادے سے نکلا ہو۔ پس یوں نہ کہو بلکہ یوں کہو جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ عزوجل کے راستے میں قتل ہوا وہ جنت میں ہے۔“ اسماعیل نے کہا: ”ان کے بعض کے بعض میں الفاظ مل گئے۔“