حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ سَمِعْتُهُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: " أَلَا لَا تُغَالُوا فِي صُدُقِ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً عِنْدَ النَّاسِ، أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ أَوْلَاكُمْ وَأَحَقَّكُمْ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مَا نَكَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ، وَلَا أَنْكَحَ امْرَأَةً مِنْ بَنَاتِهِ عَلَى أَكْثَرَ مِنَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُغْلِي بِصَدْقَةِ امْرَأَتِهِ حَتَّى يَكُونَ ذَلِكَ عَدَاوَةً فِي نَفْسِهِ، وَيَقُولُ لَهَا: لَقَدْ كَلِفْتُ إِلَيْكِ عَلَقَ الْقِرْبَةِ قَالَ: فَكُنْتُ شَابًّا فَلَمْ أَدْرِ مَا عَلَقُ الْقِرْبَةِ وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا فِي مَغَازِيكُمْ: قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا وَلَعَلَّهُ أَوْ عَسَى أَنْ يَكُونَ قَدْ أَوْقَرَ دَفَّ رَاحِلَتِهِ أَوْ عَجُزَهَا وَرِقًا أَوْ ذَهَبًا يَبْتَغِي الدُّنْيَا، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ قَالَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ»سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”خبردار! عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کرو، اگر یہ لوگوں کے نزدیک عزت کی بات ہوتی یا اللہ عزوجل کے نزدیک تقویٰ کا باعث ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے بڑھ کر اس کے زیادہ حق دار ہوتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی یا بیٹی کا نکاح بارہ اوقیہ سے زیادہ مہر پر نہیں کیا۔ تم میں سے ایک شخص اپنی بیوی کے مہر میں اتنی زیادتی کرتا ہے کہ وہ اس کے دل میں دشمنی پیدا کر دیتا ہے اور کہتا ہے: ”میں نے تجھ پر مشقت اٹھائی، مشکیزہ کی رسیاں گھسیٹیں۔“ اور دوسری بات جو تم اپنے معرکوں میں کہتے ہو کہ فلاں شہید ہو گیا، حالانکہ ممکن ہے کہ وہ اپنے اونٹ یا سواری پر چاندی یا سونا لدوا کر دنیا کا مال حاصل کر رہا ہو۔ پس یوں کہو جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کے راستے میں قتل ہو وہ شہید ہے۔“