حدیث نمبر: 1769
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ سَلْمَانُ إِلَى أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا قَالَ: يَا هَذِهِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي، وَقَالَ: «إِنْ قَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ أَنْ تَزَوَّجَ فَتَكُونَ أَوَّلَ مَا تَجْتَمِعَانِ عَلَيْهِ طَاعَةُ اللَّهِ» . فَقَالَتْ: إِنَّكَ جَلَسْتَ مَجْلِسَ الْمَرْءِ يُطَاعُ أَمْرُهُ. فَقَالَ لَهَا: قُومِي فَصَلِّي وَنَدْعُو. فَفَعَلَا، فَرَأَى بَيْتًا مُسَتَّرًا، فَقَالَ: مَا بَالُ بَيْتِكُمْ هَذَا، أَمَحْمُومٌ، أَمْ تَحَوَّلَتِ الْكَعْبَةُ فِي كِنْدَةَ؟ فَقَالُوا: لَيْسَ بِمَحْمُومٍ، وَلَمْ تُحَوَّلِ الْكَعْبَةُ فِي كِنْدَةَ، فَقَالَ: لَا أَدْخُلُهُ حَتَّى يُهْتَكَ كُلُّ سِتْرٍ إِلَّا سِتْرًا عَلَى بَابٍ "
مظاہر امیر خان

جب سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کا نکاح ابی قرہ کندی کے خاندان میں ہوا، جب وہ اپنی بیوی کے پاس آئے تو کہا: ”اے خاتون! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی تھی: ’جب اللہ عزوجل تمہیں نکاح کی توفیق دے تو تمہارا پہلا عمل اللہ کی اطاعت ہو۔‘“ بیوی نے کہا: ”آپ اس مقام پر ہیں جہاں مرد کا حکم مانا جاتا ہے۔“ تو سیدنا سلمان نے فرمایا: ”اٹھو نماز پڑھو اور دعا کرو۔“ پھر انہوں نے گھر میں پردے دیکھے تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟ کیا کوئی بیمار ہے یا کعبہ کندہ میں منتقل ہو گیا ہے؟“ کہا گیا: ”نہ کوئی بیمار ہے نہ کعبہ منتقل ہوا ہے۔“ تو فرمایا: ”میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گا جب تک تمام پردے نہ ہٹا دیے جائیں سوائے دروازے کے پردے کے۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب النكاح / حدیث: 1769
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 592، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 14706»