سنن سعید بن منصور
كتاب النكاح— نکاح کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُنَاكَحَةِ باب: شادی بیاہ کے عمومی احکام
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ سَلْمَانُ إِلَى أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا قَالَ: يَا هَذِهِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي، وَقَالَ: «إِنْ قَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ أَنْ تَزَوَّجَ فَتَكُونَ أَوَّلَ مَا تَجْتَمِعَانِ عَلَيْهِ طَاعَةُ اللَّهِ» . فَقَالَتْ: إِنَّكَ جَلَسْتَ مَجْلِسَ الْمَرْءِ يُطَاعُ أَمْرُهُ. فَقَالَ لَهَا: قُومِي فَصَلِّي وَنَدْعُو. فَفَعَلَا، فَرَأَى بَيْتًا مُسَتَّرًا، فَقَالَ: مَا بَالُ بَيْتِكُمْ هَذَا، أَمَحْمُومٌ، أَمْ تَحَوَّلَتِ الْكَعْبَةُ فِي كِنْدَةَ؟ فَقَالُوا: لَيْسَ بِمَحْمُومٍ، وَلَمْ تُحَوَّلِ الْكَعْبَةُ فِي كِنْدَةَ، فَقَالَ: لَا أَدْخُلُهُ حَتَّى يُهْتَكَ كُلُّ سِتْرٍ إِلَّا سِتْرًا عَلَى بَابٍ "جب سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کا نکاح ابی قرہ کندی کے خاندان میں ہوا، جب وہ اپنی بیوی کے پاس آئے تو کہا: ”اے خاتون! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی تھی: ’جب اللہ عزوجل تمہیں نکاح کی توفیق دے تو تمہارا پہلا عمل اللہ کی اطاعت ہو۔‘“ بیوی نے کہا: ”آپ اس مقام پر ہیں جہاں مرد کا حکم مانا جاتا ہے۔“ تو سیدنا سلمان نے فرمایا: ”اٹھو نماز پڑھو اور دعا کرو۔“ پھر انہوں نے گھر میں پردے دیکھے تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟ کیا کوئی بیمار ہے یا کعبہ کندہ میں منتقل ہو گیا ہے؟“ کہا گیا: ”نہ کوئی بیمار ہے نہ کعبہ منتقل ہوا ہے۔“ تو فرمایا: ”میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گا جب تک تمام پردے نہ ہٹا دیے جائیں سوائے دروازے کے پردے کے۔“