حدیث نمبر: 1759
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، أَنَّ زِيَادًا، بَعَثَ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى عَلَى بَعْضِ الصَّدَقَاتِ، فَقَالَ لَهُ: « إِنِّي أُنْزِلُكَ وَنَفْسِي مِنْ هَذَا الْمَالِ بِمَنْزِلَةِ وَالِي الْيَتِيمِ، مَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَا تَأْتِيَنَّ عَلَى شِغَارٍ إِلَّا رَدَدْتَهُ، [6/188] وَلَا امْرَأَةٍ عَضَلَهَا وَلِيُّهَا فَتَبْرَحُ زَائِلَةَ الْعَطَنِ حَتَّى تُزَوِّجَهَا فِي الْكَفَاةِ مِنْ قَوْمِهَا » .
مظاہر امیر خان

زیاد نے سیدنا ابو بردہ بن ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ کو کچھ صدقات پر بھیجا اور کہا: ”میں تمہیں اور اپنے آپ کو اس مال میں یتیم کے ولی کی جگہ پر رکھتا ہوں، جو غنی ہو وہ بچ کر رہے اور جو فقیر ہو وہ دستور کے مطابق کھائے، اور کسی شغار پر پہنچو تو اسے رد کر دو، اور کسی ایسی عورت پر نہ پہنچو جسے اس کا ولی روکے ہوئے ہو یہاں تک کہ اسے اپنی قوم کے ہمسر میں نکاح کر دو۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب النكاح / حدیث: 1759
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»