سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ فِي الْمُدَبَّرِ باب: مدبر غلام کے بارے میں حکم
حدیث نمبر: 1637
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي الرَّجُلِ يُزَوِّجُ أُمَّ وَلَدِهِ فَتَلِدُ الْأَوْلَادَ قَالَ: «إِذَا أُعْتِقَتْ أُمُّهُمْ فَهُمْ أَحْرَارٌ»مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اگر کسی نے اپنی ام ولد سے نکاح کیا اور وہ بچے پیدا کرے، تو جب ماں آزاد ہو جائے گی تو بچے بھی آزاد ہوں گے۔“
وضاحت:
قال يحيى بن معين: "روايات إسماعيل بن عياش عن أهل المدينة، خاصة عن عبيد الله بن عمر — مستقيمة" (الجرح والتعديل 2/204)
قال ابن حجر: هو صدوق في روايته عن أهل الشام، وأما عن غيرهم ففيه ضعف، لكن قد يُستثنى من ذلك بعض المشايخ
إسماعيل بن عياش کا "عبيد الله بن عمر" سے روایت کرنا قابلِ قبول ہے کیونکہ محدثین نے اسماعیل کی غیر شامیوں سے روایت میں نکارت کا ذکر کیا ہے، لیکن عبيد الله بن عمر کے بارے میں کسی خاص ضعف کی مثالیں موجود نہیں، بلکہ بعض محدثین نے اسماعیل کی عبيد الله سے روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
قال ابن حجر: هو صدوق في روايته عن أهل الشام، وأما عن غيرهم ففيه ضعف، لكن قد يُستثنى من ذلك بعض المشايخ
إسماعيل بن عياش کا "عبيد الله بن عمر" سے روایت کرنا قابلِ قبول ہے کیونکہ محدثین نے اسماعیل کی غیر شامیوں سے روایت میں نکارت کا ذکر کیا ہے، لیکن عبيد الله بن عمر کے بارے میں کسی خاص ضعف کی مثالیں موجود نہیں، بلکہ بعض محدثین نے اسماعیل کی عبيد الله سے روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔