سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ فِي الْمُدَبَّرِ باب: مدبر غلام کے بارے میں حکم
حدیث نمبر: 1627
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسِ بْنِ كَعْبِ بْنِ الْأَحْنَفِ النَّخَعِيُّ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ، فَلَمَّا طَالَتْ حَيَاةُ مَوْلَاهُ كَاتَبَهُ مِنْ خِدْمَتِهِ عَلَى نُجُومٍ مَعْلُومًا، فَأَدَّى بَعْضًا وَبَقِيَ بَعْضٌ، فَمَاتَ مَوْلَاهُ، فَخَاصَمَهُ وَرَثَتُهُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: «أَمَّا مَا أَخَذَ صَاحِبُكُمْ فِي حَيَاتِهِ فَهُوَ لَهُ، وَأَمَّا مَا بَقِيَ فَلَا شَيْءَ لَكُمْ إِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ» .مظاہر امیر خان
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ایک شخص نے اپنے غلام کو تدبیر کیا تھا، غلام نے اس کی زندگی میں کچھ رقم ادا کی اور کچھ باقی رہ گئی، جب وہ مر گیا تو ورثاء نے اس سے مطالبہ کیا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو کچھ مالک نے اپنی زندگی میں وصول کر لیا، وہ اس کا ہے، اور جو باقی رہ گیا اس پر تمہارا کوئی حق نہیں۔“
وضاحت:
دو اساسی علتیں:حجاج بن أرطاة ◄ ضعیف و مدلس، اور یہاں عن سے روایت ہے . "عن جده" ◄ مبہم راوی۔ محمد بن قيس بن كعب النخعي مجہول الحال (بعض نے ذکر کیا مگر توثیق ثابت نہیں)
◄ سند کا حکم: سند ضعیف ہے، اور انقطاع و جہالت راوی کی بنا پر قابلِ احتجاج نہیں۔
◄ سند کا حکم: سند ضعیف ہے، اور انقطاع و جہالت راوی کی بنا پر قابلِ احتجاج نہیں۔