سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ باب: وارث کے حق میں وصیت کے عدم جواز کا بیان
حدیث نمبر: 1605
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا طَلْحَةُ أَبُو مُحَمَّدٍ مَوْلَى بَاهِلَةَ قَالَ: نا قَتَادَةُ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ. فَقَالَ: إِنِّي لَبَيْنَ جِرَانِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا، وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ. قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ؛ وَلَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ، أَلَا وَإِنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، أَلَا مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ»مظاہر امیر خان
عمرو بن خارجہ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔ بچہ بستر والے کا ہے اور بدکار کے لیے پتھر ہے۔ جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کرے یا اپنے غیر موالی کی طرف انتساب کرے تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اور اس سے نہ کوئی نفل قبول ہو گا نہ فرض۔“
وضاحت:
شهر بن حوشب: کثیر الأوهام، غیر متابع ہو تو ضعیف، طلحة أبو محمد: مجہول الحال (یہ روایت کے پہلے حصے میں علت ہے)
وله شواهد من حديث علي بن أبي طالب، فأما حديث علي بن أبي طالب، «أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1870، 3172، 3179، 6755، 7300، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1370»
وله شواهد من حديث علي بن أبي طالب، فأما حديث علي بن أبي طالب، «أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1870، 3172، 3179، 6755، 7300، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1370»