حدیث نمبر: 1604
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «أَلَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ؛ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ، مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ التَّابِعَةُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ، لَا تُنْفِقِ امْرَأَةٌ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا» . قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الطَّعَامُ؟ قَالَ: «ذَلِكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا» . ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الْعَارِيَةَ مُؤَدَّاةٌ، وَالْمِنْحَةَ مَرْدُودَةٌ، وَالدَّيْنَ مَقْضِيٌّ، وَالزَّعِيمَ غَارِمٌ»
مظاہر امیر خان

ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ حجۃ الوداع میں فرماتے ہوئے سنا: ”سن لو! اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔ بچہ بستر والے کا ہے اور بدکار کے لیے پتھر ہے، اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔ جو شخص اپنے باپ کے سوا کسی اور کی طرف نسب کی نسبت کرے یا اپنے غیر موالی کی طرف انتساب کرے تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس سے نہ کوئی نفل قبول ہو گا نہ فرض۔ عورت اپنے گھر سے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے۔“ عرض کیا گیا: ”یا رسول اللہ! کھانے میں بھی؟“ فرمایا: ”یہ تو ہمارے مال کا سب سے افضل حصہ ہے۔“ پھر فرمایا: ”ادھار لوٹانا فرض ہے، عاریت واپس کرنی ہے، قرض ادا کرنا ہے، اور ضمانت دینے والا ضامن ہوتا ہے۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب ولاية العصبة / حدیث: 1604
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1021، 1099، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5094، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5749، 5750، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2870، 3565، والترمذي فى «جامعه» برقم: 670، 1265، 2120، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2007، 2295، 2398، 2405، 2713، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 427، والدارقطني فى «سننه» برقم: 2959، 2960، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22725، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17984، 20940»
قال ابن حجر: حسنه، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (3 / 189)