سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ الرَّجُلِ يُعْتِقُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ باب: اُس شخص کا معاملہ جو مرض الموت میں اپنا غلام آزاد کرے جبکہ اُس کے پاس اُس کے سوا کوئی مال نہ ہو
حدیث نمبر: 1585
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ، لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ وَقَالَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ» . ثُمَّ دَعَا مَمْلُوكِيهِ فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً ".مظاہر امیر خان
ایک انصاری نے موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کیے جبکہ اس کا اور کوئی مال نہ تھا، نبی صلی اللہ کہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو ناراض ہوئے اور فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ اس پر نماز نہ پڑھوں، پھر قرعہ اندازی کی اور دو غلام آزاد کیے اور چار کو غلامی میں رکھا۔“