حدیث نمبر: 1565
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، قَالَ: نا الشَّعْبِيُّ، عَنْ شُرَيْحٍ أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ اسْتَأْذَنَ وَرَثَتَهُ فَأَذِنُوا لَهُ أَنْ يُوصِيَ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ فَفَعَلَ، فَلَمَّا مَاتَ أَبَوْا أَنْ يُجِيزُوا وَصِيَّتَهُ قَالَ شُرَيْحٌ: «إِنَّ الْقَوْمَ قَدْ يَسْتَحْيُوا مِنْ صَاحِبِهِمْ مَا كَانَ حَيًّا بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ، فَإِذَا نَفَضُوا أَيْدِيَهُمْ مِنَ التُّرَابِ فَهُمْ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءُوا أَجَازُوا، وَإِنْ شَاءُوا رَدُّوا»
مظاہر امیر خان

شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی شخص نے اپنے ورثاء سے اجازت لے کر تہائی سے زیادہ وصیت کی ہو اور مرنے کے بعد ورثاء انکار کر دیں تو وہ آزاد ہیں، چاہیں تو اجازت دیں، اور چاہیں تو روک دیں، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ زندگی میں حیاء کرتے ہوں اور مرنے کے بعد انکار کر دیں۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب ولاية العصبة / حدیث: 1565
تخریج حدیث «أخرجه الدارمي فى «مسنده» برقم: 3235، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 388، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 16449، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31366، 31374»