سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ: هَلْ يُوصِي الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1541
سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أنا زَائِدَةُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أنا يَسَارُ بْنُ أَبِي كَرِبٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى شُرَيْحًا فَسَأَلَهُ عَنْهَا فَقَالَ: «تُحْسَبُ الْفَرِيضَةُ فَمَا بَلَغَتْ سُهْمَانُهَا أُعْطِيَ الْمُوصَى لَهُ سَهْمًا كَأَحَدِهَا»مظاہر امیر خان
شریح رحمہ اللہ سے ایک شخص نے پوچھا: ”جس نے مال کے حصے کی وصیت کی ہو۔“ تو فرمایا: ”مال کی تقسیم کی جائے گی اور جتنا ایک حصہ بنے گا اتنا اس وصیت کرنے والے کو دیا جائے گا۔“