سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ: هَلْ يُوصِي الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1540
سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ عَطَاءٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، فِي رَجُلٍ أَوْصَى بِسَهْمٍ مِنْ مَالِهِ , قَالَ: «لَا , لَيْسَ بِشَيْءٍ، لَمْ يُبَيِّنْ»، وَقَالَ الْحَسَنُ: «لَهُ السُّدُسُ عَلَى كُلِّ حَالٍ»مظاہر امیر خان
عطاء اور عکرمہ رحمہما اللہ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مال میں ایک حصہ وصیت کرے، وہ کچھ نہیں، کیونکہ اس نے بیان نہیں کیا۔“ اور حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس کا حق ہر حال میں چھٹا حصہ ہے۔“