سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ: هَلْ يُوصِي الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1539
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، فِي رَجُلٍ وَهَبَ لِأَوْلَادِهِ فَآثَرَ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَقَالَ لَهُ: «إِنَّ اللَّهَ قَدْ قَسَمَ بَيْنَكُمْ فَأَحْسَنَ الْقِسْمَةَ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْغَبْ بِرَأْيِهِ عَنْ رَأْيِ اللَّهِ يَضِلَّ فَأَوْصِ لِذِي قَرَابَتِكَ مِمَّنْ لَا يَرِثُكَ، وَدَعِ الْمَالَ عَلَى قِسْمَةِ اللَّهِ»مظاہر امیر خان
مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنی اولاد میں کسی کو دوسرے پر ترجیح دی، تو اللہ نے تمہارے درمیان بہترین تقسیم کی ہے، جو اپنی رائے کو اللہ کی رائے پر مقدم کرے وہ گمراہ ہو جائے گا، تم اپنے غیر وارث قریبیوں کے لئے وصیت کرو اور مال کو اللہ کی تقسیم پر چھوڑ دو۔“