سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ: هَلْ يُوصِي الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1538
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: " حَضَرَ رَجُلًا يُوصِي , فَأَوْصَى بِأَشْيَاءَ لَا يَنْبَغِي، فَقَالَ لَهُ مَسْرُوقٌ: إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ بَيْنَكُمْ فَأَحْسَنَ الْقَسْمَ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْغَبْ بِرَأْيِهِ عَنْ رَأْيِ اللَّهِ يَضِلَّ، أَوْصِ لِذِي قَرَابَتِكَ مِمَّنْ لَا يَرِثُكَ، ثُمَّ دَعِ الْمَالَ عَلَى مَا قَسَمَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ "مظاہر امیر خان
مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ایک شخص وصیت کر رہا تھا اور ان چیزوں کی وصیت کرنے لگا جو مناسب نہ تھیں، تو بے شک اللہ نے تمہارے درمیان بہترین تقسیم کی ہے، اور جو شخص اللہ کی تقسیم کو چھوڑ کر اپنی رائے پر چلے وہ گمراہ ہو جاتا ہے، تم اپعات کے لئے وصیت کرو جو تمہارے وارث نہیں، پھر اللہ کی تقسیم پر مال چھوڑ دو۔“