سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ: هَلْ يُوصِي الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1537
سَعِيدٌ قَالَ: نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، قَالَ: أَوْصَى جَارٌ لِمَسْرُوقٍ فَدَعَاهُ لِيُشْهِدَهُ، فَوَجَدَهُ قَدْ بَذَّرَ وَأَكْثَرَ فَقَالَ مَسْرُوقٌ: «إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ بَيْنَكُمْ فَأَحْسَنَ الْقَسْمَ، فَمَنْ يَرْغَبْ بِرَأْيِهِ عَنْ رَأْيِ اللَّهِ يَضِلَّ، فَأَوْصِ لِذِي قَرَابَتِكَ مِمَّنْ لَا يَرِثُ، وَدَعِ الْمَالَ عَلَى قَسْمِ اللَّهِ، وَأَبَى أَنْ يَشْهَدَ»مظاہر امیر خان
مسروق رحمہ اللہ کے پاس ایک ہمسایہ آیا، جو اس سے اپنی وصیت پر گواہی چاہتا تھا، مگر مسروق نے دیکھا کہ اس نے فضول خرچی اور زیادتی کی تھی، تو مسروق نے کہا: ”اللہ نے تمہارے درمیان بہترین تقسیم کی ہے، جس نے اللہ کی تقسیم کے مقابلے میں اپنی رائے کو پسند کیا وہ گمراہ ہو گیا، اپنے رشتہ داروں میں سے ان کے لئے وصیت کرو جو وارث نہیں، اور اللہ کی تقسیم پر چھوڑ دو۔“ اور گواہی دینے سے انکار کر دیا۔