سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ: هَلْ يُوصِي الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1536
سَعِيدٌ قَالَ: أنا أَبُو عَتَّابٍ مُسْلِمُ بْنُ عَطَاءٍ الْقُرَشِيُّ أَنَّ رَجُلًا تُوُفِّيَ فَأَوْصَى فِي قَرَابَتِهِ بِشَيْءٍ فَاسْتَقَلَّتْهُ الْقَرَابَةُ فَقَالُوا لِي: لَوْ زِدْتَهُمْ، وَكُنْتُ أَنَا الْوَصِيَّ، فَقُلْتُ: لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَزِيدَهُمْ عَلَى مَا أَمَرَ لَهُمْ، فَقَالُوا: فَهَلْ لَكَ أَنْ تَسْأَلَ الْحَسَنَ قُلْتُ: نَعَمْ، فَذَهَبْتُ مَعَ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ إِلَى الْحَسَنِ فَسَأَلَهُ حُمَيْدٌ عَنْ ذَلِكَ وَأَنَا أَسْمَعُ، فَقَالَ: «أُرَاهُ قَدْ سَمَّى لَهُمْ شَيْئًا انْتَهُوا إِلَى مَا سَمَّى لَهُمْ»مظاہر امیر خان
مسلم بن عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی قرابت داروں کے لئے کچھ وصیت کی، مگر قرابت دار اس کو کم سمجھے، تو انہوں نے کہا: ”ان کے حصے کو بڑھا دو۔“ میں نے کہا: ”میں ان کا حصہ نہیں بڑھا سکتا۔“ پھر انہوں نے کہا: ”حسن بصری رحمہ اللہ سے پوچھو۔“ جب پوچھا گیا تو فرمایا: ”جو اس نے مقرر کیا ہے وہی کافی ہے۔“