سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ: هَلْ يُوصِي الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1535
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِنَّ الْوَصِيَّةَ كَانَتْ قَبْلَ الْمِيرَاثِ، فَلَمَّا نَزَلَ الْمِيرَاثُ نَسَخَ الْمِيرَاثُ مَنْ يَرِثُ، وَبَقِيَتِ الْوَصِيَّةُ لِمَنْ لَا يَرِثُ فَهِيَ ثَابِتَةٌ، فَمَنْ أَوْصَى لِغَيْرِ ذِي قَرَابَتِهِ لَمْ تُجَزْ وَصِيَّتُهُ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ»مظاہر امیر خان
ابن طاؤس رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وصیت پہلے تھی، جب میراث کے احکام نازل ہوئے تو وہ وارثوں کے لئے مخصوص ہو گئی اور وصیت غیر وارثین کے لئے باقی رہی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وارث کے لئے وصیت جائز نہیں»۔“