سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ: هَلْ يُوصِي الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1534
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا جُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لَوْ كُنْتُ وَالِيًا فَأُوتَيْتُ بِمَنْ أَوْصَى لِغَيْرِ ذِي قَرَابَتِهِ رَدَدْتُ ذَلِكَ وَلَوْ بُنِيَتْ بِهِ الدُّورُ أَوِ اتُّخِذَتْ بِهِ الْأَمْوَالُ»مظاہر امیر خان
ضحاک رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر میں حاکم ہوتا اور کوئی غیر قریبی کے لئے وصیت کرتا، تو میں اس وصیت کو رد کر دیتا، چاہے اس سے محلات بنائی جاتیں یا مال حاصل کیا جاتا۔“