سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ: هَلْ يُوصِي الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1532
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، وَحُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «مَنْ أَوْصَى لِغَيْرِ ذِي قَرَابَةٍ فَلِلَّذِينَ أَوْصَى لَهُمْ ثُلُثَ الثُّلُثِ، وَلِقَرَابَتِهِ ثُلُثَيِ الثُّلُثِ»مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو کسی غیر قریبی کے لئے وصیت کرے تو ایک تہائی میں سے ایک تہائی غیر قریبی کو اور دو تہائی قریبی رشتہ داروں کو دیا جائے۔“