سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ: هَلْ يُوصِي الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1531
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْمَرٍ: " مَنْ قَالَ: اجْعَلُوا ثُلُثِي حَيْثُ أَمَرَ اللَّهُ، جَعَلْنَاهُ لِمَنْ لَا يَرِثُ مِنْ ذِي قَرَابَةٍ، وَمَنْ سَمَّى شَيْئًا جَعَلْنَاهُ حَيْثُ سَمَّى "مظاہر امیر خان
عبداللہ بن معمر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جس نے کہا کہ میرے مال کا تہائی اللہ کی طرف سے جہاں چاہے وہاں خرچ کیا جائے، ہم اسے ان کے قریبی رشتہ داروں میں دے دیتے تھے جو وارث نہ ہوں، اور جس نے کسی خاص چیز کی تعیین کی تو ہم اسے وہیں دیتے تھے جہاں تعیین کی۔“