سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ: هَلْ يُوصِي الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1530
سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ بِالثُّلُثِ أَوِ الرُّبُعِ كَانَتِ الْوَصِيَّةُ عَلَى الْعَاجِلِ وَالْآجِلِ فَإِذَا أَوْصَى بِدَرَاهِمَ مُسَمَّاةٍ، أَوْ بِثَوْبٍ، أَوْ بِدَابَّةٍ كَانَتِ الْوَصِيَّةُ فِي الْعَاجِلِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الثُّلُثِ»مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص تہائی یا چوتھائی وصیت کرے تو یہ نقدی اور قرض دونوں پر جاری ہو گی، اور جب کسی مقرر درہم، کپڑے یا سواری کی وصیت کرے تو یہ نقدی میں شمار ہو گی جب تک کہ تہائی مکمل نہ ہو جائے۔“