سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ: هَلْ يُوصِي الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1529
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: «إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ بِالثُّلُثِ أَوِ الرُّبُعِ كَانَ فِي الْعَيْنِ وَالدَّيْنِ، وَإِذَا أَوْصَى بِثَلَاثِينَ دِرْهَمًا أَوْ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا، كَانَ مِنَ الْعَيْنِ دُونَ الدَّيْنِ»مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص تہائی یا چوتھائی وصیت کرے تو یہ نقدی اور قرض دونوں میں شامل ہو گی، اور جب کسی معین درہموں یا چیز کی وصیت ہو تو یہ نقدی سے ہی دی جائے گی۔“