سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ: هَلْ يُوصِي الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1528
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ «إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِثُلُثٍ أَوْ رُبْعٍ أَوْ خُمُسٍ فَهُوَ مِنْ عَاجِلِ مَالِهِ وَآجِلِهِ، وَإِذَا أَوْصَى لِفُلَانٍ بِكَذَا، وَلِفُلَانٍ بِكَذَا، فَهُوَ مِنْ عَاجِلِ مَالِهِ حَتَّى يَبْلُغَ الثُّلُثَ، فَإِذَا بَلَغَ الثُّلُثَ فَهُوَ مِنَ الْعَاجِلِ وَالْآجِلِ»مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنے مال کا تہائی، چوتھائی یا پانچواں حصہ وصیت کرے تو یہ مال کے حاضر اور مؤجل دونوں سے شمار کیا جائے گا، اور اگر کسی کے لئے کوئی معین چیز وصیت کی تو جب تک تہائی پورا نہ ہو صرف حاضر مال سے ہو گا، پھر آگے حاضر اور مؤجل دونوں سے شمار کیا جائے گا۔“