سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابٌ: هَلْ يُوصِي الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1527
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عَوْفٌ، قَالَ: شَهِدْتُ هِشَامَ بْنَ هُبَيْرَةَ أُتِيَ فِي رَجُلٍ أَوْصَى لِرَجُلٍ بِمِثْلِ نَصِيبِ بَعْضِ وَلَدِهِ , فَقَالَ هِشَامٌ: «إِنْ كَانَ وَلَدُهُ ذَكَرًا فَلَهُ نَصِيبُ ذَكَرٍ، وَإِنْ كَانُوا إِنَاثًا فَلَهُ نَصِيبُ الْأُنْثَى»مظاہر امیر خان
ہشام بن حبیرہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی نے کسی کے لئے اپنے کسی بیٹے کے برابر وصیت کی تو اگر اس کے بیٹے مرد تھے تو اسے مرد کا حصہ ملے گا اور اگر عورتیں تھیں تو عورت کا حصہ ملے گا۔“